اِنَّ الَّذِيْنَ اتَّقَوْا اِذَا مَسَّهُمْ طٰٓىِٕفٌ مِّنَ الشَّيْطٰنِ تَذَكَّرُوْا فَاِذَاهُمْ مُّبْصِرُوْنَ 7|201
جو لوگ پرہیزگار ہیں جب انہیں کوئی شیطانی خیال چھو بھی جائے تو وہ چوکنے ہو جاتے ہیں اور یادِ الٰہی میں لگ جاتے ہیں اور ان کی بصیرت تازہ ہو جاتی ہے (اور حقیقتِ حال کو دیکھنے لگتے ہیں)۔
وَ اِخْوَانُهُمْ يَمُدُّوْنَهُمْ فِي الْغَيِّ ثُمَّ لَا يُقْصِرُوْنَ 7|202
اور جو شیطانوں کے بھائی بند ہیں تو وہ (شیاطینِ انسی و جنی) ان کو گمراہی میں کھینچتے لئے جاتے ہیں اور (انہیں گمراہ کرتے ہیں) کوئی کسر اٹھا نہیں رکھتے۔
وَ اِذَا لَمْ تَاْتِهِمْ بِاٰيَةٍ قَالُوْا لَوْ لَا اجْتَبَيْتَهَا١ؕ قُلْ اِنَّمَاۤ اَتَّبِعُ مَا يُوْحٰۤى اِلَيَّ مِنْ رَّبِّيْ١ۚ هٰذَا بَصَآىِٕرُ مِنْ رَّبِّكُمْ وَ هُدًى وَّ رَحْمَةٌ لِّقَوْمٍ يُّؤْمِنُوْنَ 7|203
اے پیغمبر(ص)) جب تم ان کے سامنے (ان کا کوئی مطلوبہ) معجزہ لے کر نہ جاؤ تو وہ کہتے ہیں کہ تم نے خود کوئی معجزہ کیوں نہ منتخب کر لیا؟ (یعنی اپنی مرضی سے کیوں نہ بنا لیا؟) کہہ دیجیے کہ میں تو صرف اسی وحی کی پیروی کرتا ہوں جو میرا پروردگار مجھے کرتا ہے (اس میں میری پسند کا کیا دخل؟) یہ (قرآن) تمہارے پروردگار کی طرف سے سامانِ ہدایت اور سراسر رحمت ہے۔
وَ اِذَا قُرِئَ الْقُرْاٰنُ فَاسْتَمِعُوْا لَهٗ وَ اَنْصِتُوْا لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ 7|204
اور (اے مسلمانو) جب قرآن پڑھا جائے تو کان لگا کر (توجہ سے) سنو اور خاموش ہو جاؤ تاکہ تم پر رحمت کی جائے۔
وَ اذْكُرْ رَّبَّكَ فِيْ نَفْسِكَ تَضَرُّعًا وَّ خِيْفَةً وَّ دُوْنَ الْجَهْرِ مِنَ الْقَوْلِ بِالْغُدُوِّ وَ الْاٰصَالِ وَ لَا تَكُنْ مِّنَ الْغٰفِلِيْنَ 7|205
اور (اے پیغمبر(ص)) صبح و شام اپنے پروردگار کو یاد کرو۔ اپنے دل میں عجز و انکساری اور خوف و ہراس کے ساتھ۔ اور زبان سے بھی چِلائے بغیر (یعنی دھیمی آواز کے ساتھ) اور (یادِ خدا سے) غفلت کرنے والوں میں سے نہ ہو جاؤ۔
اِنَّ الَّذِيْنَ عِنْدَ رَبِّكَ لَا يَسْتَكْبِرُوْنَ عَنْ عِبَادَتِهٖ وَ يُسَبِّحُوْنَهٗ وَ لَهٗ يَسْجُدُوْنَ 7|206
جو تمہارے پروردگار کے خاص مقرب ہیں وہ کبھی اس کی عبادت سے سرکشی نہیں کرتے اور اس کی تسبیح و تقدیس کرتے ہیں (اس کی پاکی بیان کرتے ہیں)اور اس کی بارگاہ میں سر بسجود ہوتے ہیں۔