بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
شروع کرتا ہوں) اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے۔
يَسْـَٔلُوْنَكَ عَنِ الْاَنْفَالِ١ؕ قُلِ الْاَنْفَالُ لِلّٰهِ وَ الرَّسُوْلِ١ۚ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَصْلِحُوْا ذَاتَ بَيْنِكُمْ١۪ وَ اَطِيْعُوا اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗۤ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِيْنَ 8|1
اے رسول) لوگ آپ سے انفال کے بارے میں سوال کرتے ہیں۔ کہہ دیجیے کہ انفال اللہ اور اللہ کے رسول کے لئے ہیں۔ پس اگر تم مؤمن ہو تو اللہ سے ڈرو۔ اور اپنے باہمی تعلقات و معاملات کی اصلاح کرو۔ اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو۔
اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِيْنَ اِذَا ذُكِرَ اللّٰهُ وَ جِلَتْ قُلُوْبُهُمْ وَ اِذَا تُلِيَتْ عَلَيْهِمْ اٰيٰتُهٗ زَادَتْهُمْ اِيْمَانًا وَّ عَلٰى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُوْن 8|2
کامل) ایمان والے تو بس وہ ہیں کہ جب اللہ کا ذکر کیا جائے تو ان کے دل دھل جاتے ہیں اور جب ان کے سامنے اس کی آیتوں کی تلاوت کی جائے تو ان کے ایمان بڑھ جاتے ہیں اور وہ ہر ایک حال میں اپنے پروردگار پر توکل (بھروسہ) رکھتے ہیں۔
الَّذِيْنَ يُقِيْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَ مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ يُنْفِقُوْنَ 8|3
جو نماز قائم کرتے ہیں اور جو کچھ ہم نے ان کو دیا ہے اس میں سے کچھ (ہماری راہ میں) خرچ کرتے ہیں۔
اُولٰٓىِٕكَ هُمُ الْمُؤْمِنُوْنَ حَقًّا١ؕ لَهُمْ دَرَجٰتٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ وَ مَغْفِرَةٌ وَّ رِزْقٌ كَرِيْمٌ 8|4
بے شک ایسے لوگ حقیقی مؤمن ہیں۔ ان کے لئے ان کے پروردگار کے ہاں مرتبے ہیں۔ اور بخشش ہے اور بہترین روزی ہے۔
كَمَاۤ اَخْرَجَكَ رَبُّكَ مِنْۢ بَيْتِكَ بِالْحَقِّ١۪ وَ اِنَّ فَرِيْقًا مِّنَ الْمُؤْمِنِيْنَ لَكٰرِهُوْنَ 8|5
یہ انفال کا معاملہ ایسا ہی ہے) جیساکہ آپ کے پروردگار نے (جنگِ بدر میں) حق کے ساتھ آپ کو آپ کے گھر سے نکالا اور اہلِ ایمان کا ایک گروہ اس کو ناپسند کر رہا تھا۔
يُجَادِلُوْنَكَ فِي الْحَقِّ بَعْدَ مَا تَبَيَّنَ كَاَنَّمَا يُسَاقُوْنَ اِلَى الْمَوْتِ وَ هُمْ يَنْظُرُوْنَ 8|6
باوجودیکہ حق واضح ہوگیا تھا مگر وہ گروہ آپ سے اس امرِ حق میں یوں جھگڑ رہا تھا۔ کہ گویا اسے موت کی طرف ہانک کر لے جایا جا رہا ہے اور وہ اپنی آنکھوں سے موت کو دیکھ رہا ہے۔
وَ اِذْ يَعِدُكُمُ اللّٰهُ اِحْدَى الطَّآىِٕفَتَيْنِ اَنَّهَا لَكُمْ وَ تَوَدُّوْنَ اَنَّ غَيْرَ ذَاتِ الشَّوْكَةِ تَكُوْنُ لَكُمْ وَ يُرِيْدُ اللّٰهُ اَنْ يُّحِقَّ الْحَقَّ بِكَلِمٰتِهٖ وَ يَقْطَعَ دَابِرَ الْكٰفِرِيْنَ 8|7
اور (یاد کرو وہ وقت) کہ جب خدا نے تم سے دو گروہوں میں سے ایک کا وعدہ کیا تھا کہ وہ تمہارے لئے ہے (تمہارے ہاتھ آئے گا) اور تم یہ چاہتے تھے کہ غیر مسلح گروہ تمہارے ہاتھ آجائے اور اللہ یہ چاہتا تھا کہ اپنے کلام و احکام کے ذریعہ سے حق کو ثابت کر دے اور کافروں کی جڑ کاٹ دے۔
لِيُحِقَّ الْحَقَّ وَ يُبْطِلَ الْبَاطِلَ وَ لَوْ كَرِهَ الْمُجْرِمُوْنَ 8|8
تاکہ حق کو حق کرکے اور باطل کو باطل کرکے دکھا دے اگرچہ مجرم لوگ اس بات کو کتنا ہی ناپسند کریں (یعنی خدا چاہتا تھا کہ تمہاری مسلح گروہ سے مڈبھیڑ ہو)۔
اِذْ تَسْتَغِيْثُوْنَ رَبَّكُمْ فَاسْتَجَابَ لَكُمْ اَنِّيْ مُمِدُّكُمْ بِاَلْفٍ مِّنَ الْمَلٰٓىِٕكَةِ مُرْدِفِيْنَ 8|9
اس وقت کو یاد کرو) جب تم اپنے پروردگار سے فریاد کر رہے تھے اور اس نے تمہاری فریاد سن لی (اور فرمایا) کہ تمہاری مدد کے لیے یکے بعد دیگرے ایک ہزار فرشتے بھیج رہا ہوں۔
وَ مَا جَعَلَهُ اللّٰهُ اِلَّا بُشْرٰى وَ لِتَطْمَىِٕنَّ بِهٖ قُلُوْبُكُمْ١ۚ وَ مَا النَّصْرُ اِلَّا مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَزِيْزٌ حَكِيْمٌ 8|10
اور اللہ نے ایسا اس لئے کیا کہ تمہارے لئے خوشخبری ہو اور تمہارے مضطرب دلوں کو اطمینان ہو ورنہ فتح و فیروزی تو بہرحال اللہ ہی کی طرف سے ہے۔ یقینا اللہ زبردست اور حکمت والا ہے۔