عَمَّ (30)

سورۃ النازعات (79)

(11-20)

ءَاِذَا كُنَّا عِظَامًا نَّخِرَةًؕ 79|11

کیا جب ہم بوسیدہ ہڈیاں ہو جائیں گے؟

قَالُوْا تِلْكَ اِذًا كَرَّةٌ خَاسِرَة 79|12

کہتے ہیں یہ (واپسی) تو بڑے گھاٹے کی ہوگی۔

فَاِنَّمَا هِيَ زَجْرَةٌ وَّاحِدَةٌۙ 79|13

حالانکہ اس (واپسی) کیلئے ایک زور کی ڈانٹ پڑے گی۔

فَاِذَا هُمْ بِالسَّاهِرَةِؕ 79|14

پھر وہ کھلے ہوئے میدان (قیامت) میں موجود ہوں گے۔

هَلْ اَتٰىكَ حَدِيْثُ مُوْسٰىۘ 79|15

اے رسول(ص)) کیا آپ(ص) کو موسیٰ(ع) کے قصہ کی خبر پہنچی ہے؟

اِذْ نَادٰىهُ رَبُّهٗ بِالْوَادِ الْمُقَدَّسِ طُوًى ۚ 79|16

جب ان کے پروردگار نے طویٰ کی مقدس وادی میں انہیں پکارا تھا۔

اِذْهَبْ اِلٰى فِرْعَوْنَ اِنَّهٗ طَغٰى 79|17

کہ جاؤ فرعون کے پاس کہ وہ سرکش ہوگیا ہے۔

فَقُلْ هَلْ لَّكَ اِلٰۤى اَنْ تَزَكّٰى 79|18

پس اس سے کہو کہ کیا تو چاہتا ہے کہ پاکیزگی اختیار کرے؟

وَ اَهْدِيَكَ اِلٰى رَبِّكَ فَتَخْشٰى 79|19

اور (کیا تو چاہتا ہے کہ) میں تیرے پروردگار کی طرف تیری راہنمائی کروں تو تُو (اس سے) ڈرے؟

فَاَرٰىهُ الْاٰيَةَ الْكُبْرٰى 79|20

پس موسیٰ(ع) نے (وہاں جا کر) اسے ایک بہت بڑی نشانی دکھائی۔