قَالَ فَمَا خَطْبُكُمْ (27)

سورۃ القمر (54)

(1-10)

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

شروع کرتا ہوں) اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے۔

اِقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَ انْشَقَّ الْقَمَرُ 54|1

قیامت کی) گھڑی قریب آگئی اور چاند پھٹ گیا۔

وَ اِنْ يَّرَوْا اٰيَةً يُّعْرِضُوْا وَ يَقُوْلُوْا سِحْرٌ مُّسْتَمِرٌّ 54|2

اور اگر وہ کوئی نشانی (معجزہ) دیکھتے ہیں تو منہ پھیر لیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ تو مستقل جادو ہے (جو پہلے سے چلا آرہا ہے)۔

وَ كَذَّبُوْا وَ اتَّبَعُوْۤا اَهْوَآءَهُمْ وَ كُلُّ اَمْرٍ مُّسْتَقِرٌّ 54|3

اور انہوں نے (رسول(ص) کو) جھٹلایا اور اپنی خواہشات کی پیروی کی اور ہر کام کا وقت مقرر ہے اور ثابت ہے۔

وَ لَقَدْ جَآءَهُمْ مِّنَ الْاَنْۢبَآءِ مَا فِيْهِ مُزْدَجَرٌۙ 54|4

اور ان کے پاس ایسی (سابقہ قوموں کی) ایسی خبریں آچکی ہیں جن میں (سرکشی کرنے والوں کیلئے) کافی سامانِ عبرت ہے۔

حِكْمَةٌۢ بَالِغَةٌ فَمَا تُغْنِ النُّذُرُ 54|5

یعنی نہایت اعلیٰ حکمت اور دانشمندی مگر تنبیہات (ان کو) کوئی فائدہ نہیں دیتیں۔

فَتَوَلَّ عَنْهُمْ١ۘ يَوْمَ يَدْعُ الدَّاعِ اِلٰى شَيْءٍ نُّكُرٍۙ 54|6

اے رسول(ص)) ان لوگوں سے رخ پھیر لیجئے جس دن ایک پکارنے والا ایک سخت ناگوار چیز کی طرف بلائے گا۔

خُشَّعًا اَبْصَارُهُمْ يَخْرُجُوْنَ مِنَ الْاَجْدَاثِ كَاَنَّهُمْ جَرَادٌ مُّنْتَشِرٌ 54|7

شدتِ خوف سے) آنکھیں جھکائے ہوئے قبروں سے یوں نکل پڑیں گے کہ گویا بکھری ہوئی ہڈیاں ہیں۔

مُّهْطِعِيْنَ اِلَى الدَّاعِ١ؕ يَقُوْلُ الْكٰفِرُوْنَ هٰذَا يَوْمٌ عَسِرٌ 54|8

دہشت سے) گردنیں بڑھائے پکارنے والے کی طرف دوڑتے جا رہے ہوں گے (اس دن) کافر کہیں گے کہ یہ بڑا دشوار دن ہے۔

كَذَّبَتْ قَبْلَهُمْ قَوْمُ نُوْحٍ فَكَذَّبُوْا عَبْدَنَا وَ قَالُوْا مَجْنُوْنٌ وَّ ازْدُجِرَ 54|9

ان سے پہلے قومِ نوح(ع) نے جھٹلایا سو انہوں نے ہمارے بندۂ خاص کو جھٹلایا اور ان پر جھوٹا ہو نے کا الزام لگایا اور اسے جھڑکا بھی گیا۔

فَدَعَا رَبَّهٗۤ اَنِّيْ مَغْلُوْبٌ فَانْتَصِرْ 54|10

آخر کار اس (نوح(ع)) نے اپنے پروردگار کو پکارا کہ میں مغلوب ہوں۔ لہٰذا تو (ان سے) بدلہ لے۔