تَبٰرَكَ الَّذِيْ (29)

سورۃ القلم (68)

(11-20)

هَمَّازٍ مَّشَّآءٍۭ بِنَمِيْمٍۙ 68|11

جو بڑی نکتہ چینی کرنے والا (اور) چلتا پھرتا چغل خور ہے۔

مَّنَّاعٍ لِّلْخَيْرِ مُعْتَدٍ اَثِيْمٍ 68|12

کارِ خیر سے بڑا منع کرنے والا، حد سے بڑھنے والا (اور) بڑا گنہگار ہے۔

عُتُلٍّۭ بَعْدَ ذٰلِكَ زَنِيْمٍۙ 68|13

سخت مزاج ہے اور ان (سب بری صفتوں) کے علاوہ وہ بداصل بھی ہے۔

اَنْ كَانَ ذَا مَالٍ وَّ بَنِيْنَ 68|14

یہ سب کچھ اس بناء پر ہے کہ وہ مالدار اور اولاد والا ہے۔

اِذَا تُتْلٰى عَلَيْهِ اٰيٰتُنَا قَالَ اَسَاطِيْرُ الْاَوَّلِيْنَ 68|15

جب اس کو ہماری آیتیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو وہ کہتا ہے کہ یہ تو اگلے لوگوں کے افسانے ہیں۔

سَنَسِمُهٗ عَلَى الْخُرْطُوْمِ 68|16

ہم عنقریب اس کی سونڈ (نا ک) پر داغ لگائیں گے۔

اِنَّا بَلَوْنٰهُمْ كَمَا بَلَوْنَاۤ اَصْحٰبَ الْجَنَّةِ١ۚ اِذْ اَقْسَمُوْا لَيَصْرِمُنَّهَا مُصْبِحِيْنَۙ 68|17

ہم نے ان (کفارِ مکہ) کو اسی طرح آزمائش میں ڈالا ہے جس طرح ایک باغ والوں کو آزمائش میں ڈالا تھا جب انہوں نے قَسم کھائی تھی کہ وہ صبح سویرے ضرور اس کا پھل توڑ لیں گے۔

وَ لَا يَسْتَثْنُوْنَ 68|18

اور انہوں نے کوئی استثناء نہیں کیا تھا (انشاء اللہ نہیں کہا تھا)۔

فَطَافَ عَلَيْهَا طَآىِٕفٌ مِّنْ رَّبِّكَ وَ هُمْ نَآىِٕمُوْنَ 68|19

پھر (راتوں رات) جب کہ وہ لوگ ابھی سوئے ہوئے تھے آپ(ص) کے پروردگار کی طرف سے ایک آفت چکر لگا گئی۔

فَاَصْبَحَتْ كَالصَّرِيْمِۙ 68|20

تو وہ (باغ) کٹی ہوئی فصل کی طرح ہوگیا۔