تَبٰرَكَ الَّذِيْ (29)

سورۃ القیامہ (75)

(1-10)

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

شروع کرتا ہوں) اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے۔

لَاۤ اُقْسِمُ بِيَوْمِ الْقِيٰمَةِۙ 75|1

نہیں! میں قَسم کھاتا ہوں قیامت کے دن کی۔

وَ لَاۤ اُقْسِمُ بِالنَّفْسِ اللَّوَّامَة 75|2

اور نہیں! میں قَسم کھاتا ہوں ملامت کرنے والے نفس کی۔

اَيَحْسَبُ الْاِنْسَانُ اَلَّنْ نَّجْمَعَ عِظَامَهٗؕ 75|3

کیا انسان یہ گمان کرتا ہے کہ ہم اس کی (بوسیدہ) ہڈیوں کو جمع نہیں کریں گے؟

بَلٰى قٰدِرِيْنَ عَلٰۤى اَنْ نُّسَوِّيَ بَنَانَهٗ 75|4

ہاں ضرور جمع کریں گے ہم اس کی انگلیوں کے پور پور درست کرنے پر قادر ہیں۔

بَلْ يُرِيْدُ الْاِنْسَانُ لِيَفْجُرَ اَمَامَهٗۚ 75|5

بلکہ انسان چاہتا ہے کہ اپنے آگے (آئندہ زندگی میں) بھی بدعملی کرتا رہے۔

يَسْـَٔلُ اَيَّانَ يَوْمُ الْقِيٰمَةِؕ 75|6

اس لئے) پوچھتا ہے کہ قیامت کا دن کب آئے گا؟

فَاِذَا بَرِقَ الْبَصَرُۙ 75|7

پس جب نگاہ خیرہ ہو جائے گی۔

وَ خَسَفَ الْقَمَرُۙ 75|8

اور چاند کو گہن لگ جائے گا۔

وَ جُمِعَ الشَّمْسُ وَ الْقَمَرُۙ 75|9

اور سورج اور چاند اکٹھے کر دئیے جائیں گے۔

يَقُوْلُ الْاِنْسَانُ يَوْمَىِٕذٍ اَيْنَ الْمَفَرُّۚ 75|10

اس دن انسان کہے گا کہ بھاگنے کی جگہ کہاں ہے؟