عَمَّ (30)

سورۃ البینہ (98)

(1-5)

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

شروع کرتا ہوں) اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے۔

لَمْ يَكُنِ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا مِنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ وَ الْمُشْرِكِيْنَ مُنْفَكِّيْنَ حَتّٰى تَاْتِيَهُمُ الْبَيِّنَةُۙ 98|1

اہلِ کتاب اور مشرکین میں سے جو لوگ کافر تھے وہ (اپنے کفر سے) باز آنے والے نہ تھے جب تک ان کے پاس ایک واضح دلیل نہ آجائے۔

رَسُوْلٌ مِّنَ اللّٰهِ يَتْلُوْا صُحُفًا مُّطَهَّرَةًۙ 98|2

یعنی اللہ کا ایک رسول(ع) جو انہیں پاک و پاکیزہ صحیفے پڑھ کر سنا ئے۔

فِيْهَا كُتُبٌ قَيِّمَةٌؕ 98|3

جن میں بالکل درست باتیں لکھی ہوئی ہوں۔

وَ مَا تَفَرَّقَ الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ اِلَّا مِنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَتْهُمُ الْبَيِّنَةُؕ 98|4

اور جن لوگوں کو کتاب دی گئی تھی (اور وہ اہلِ کتاب تھے) وہ تو واضح دلیل کے آجانے کے بعد ہی تفرقہ میں پڑے۔

وَ مَاۤ اُمِرُوْۤا اِلَّا لِيَعْبُدُوا اللّٰهَ مُخْلِصِيْنَ لَهُ الدِّيْنَ١ۙ۬ حُنَفَآءَ وَ يُقِيْمُوا الصَّلٰوةَ وَ يُؤْتُوا الزَّكٰوةَ وَ ذٰلِكَ دِيْنُ الْقَيِّمَةِؕ 98|5

حالانکہ انہیں تو بس یہی حکم دیا گیا تھا کہ دین کو اسی کیلئے خالص کرتے ہوئے اللہ کی عبادت کریں بالکل یکسُو ہو کر اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ دیں اور یہی نہایت (صحیح اور) درست دین ہے۔

اِنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا مِنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ وَ الْمُشْرِكِيْنَ فِيْ نَارِ جَهَنَّمَ خٰلِدِيْنَ فِيْهَا١ؕ اُولٰٓىِٕكَ هُمْ شَرُّ الْبَرِيَّةِؕ 98|6

بےشک جو اہلِ کتاب اور مشرکین کفر میں مبتلا ہیں وہ جہنم کی آگ میں پڑیں گے (اور) ہمیشہ اس میں رہیں گے یہی لوگ بدترینِ خلائق ہیں۔

اِنَّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ١ۙ اُولٰٓىِٕكَ هُمْ خَيْرُ الْبَرِيَّة 98|7

اور بےشک جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کئے وہی بہترینِ خلائق ہیں۔

جَزَآؤُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ جَنّٰتُ عَدْنٍ تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِيْنَ فِيْهَاۤ اَبَدًا١ؕ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمْ وَ رَضُوْا عَنْهُ١ؕ ذٰلِكَ لِمَنْ خَشِيَ رَبَّهٗ 98|8

ان کی جزا ان کے پروردگار کے ہاں ہمیشگی کی جنتیں ہیں جن کے نیچے نہریں جاری ہیں وہ ان میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے اللہ ان سے راضی ہے اور وہ اللہ سے راضی ہیں (یہ سب کچھ) اس کے لئے ہے جو اپنے پروردگار (کی حکم عدولی) سے ڈرتا ہے۔